Prof. Syed Mujahid Sajjad

غسل خانے میں وہ کہتی ہیں ہمیں چینی کی اینٹیں ہی پسند آتی ہیں

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

غسل خانے میں وہ کہتی ہیں ہمیں چینی کی اینٹیں ہی پسند آتی ہیں

چینی کی اینٹوں پہ وہ کہتی ہیں چھینٹا جو پڑے تو پل میں

ایک اک بوند بہت جلد پھسل جاتی ہے

کوئی پوچھے کہ بھلا بوندوں کے یوں جلد پھسل جانے میں

کیا فائدہ ہے

جب ضرورت ہوئی جی چاہا تو چپکے سے گئے اور نہا کر لوٹے

دھل دھلا کر یوں چلے آئے کہ جس طرح کسی جھیل کے پانی پہ کوئی مرغابی

ایک دم ڈبکی لگاتی ہے لگاتے ہی ابھر آتی ہے

اور پھر تیرتی جاتی ہے ذرا رکتی نہیں

وہ یہ کہتی ہیں مگر چینی کی اینٹوں کا اگر فرش ہو دیواریں ہوں

دل یہ کہتا ہے کہ ہر چیز کا نکھرا ہوا رنگ

آنکھوں کو کتنا بھلا لگتا ہے

جیسے برسات میں تھم جاتے ہیں بادل جو برس کر تو ہر اک پھلواری

یوں نظر آتی ہے

جیسے جانا ہو اسے اپنے کسی چاہنے والے سے کہیں ملنے کو جانا ہو مگر

ابھی کچھ سوچ میں ہو

کوئی پوچھے کہ بھلا چینی کی اینٹوں کو کسی سوچ سے کیا نسبت ہے

چینی کی اینٹیں تو بے جان ہیں پھلواری میں ہر پھول کلی ہر پتہ

زیست کے نور سے لہراتا ہے

پھول مرجھائے کلی کھلتی ہے

اور ہر پتہ نئے پھول کے گن گاتا ہے

چینی کی اینٹیں کوئی گیت نہیں گا سکتیں

چینی کی اینٹیں تو خاموش رہا کرتی ہیں

ایسی خاموشی سے اکتا کے نہانے والا

کچھ اس انداز سے اک تان لگاتا ہے کہ لقمان ہی یاد آتا ہے

جب میں یہ کہتا ہوں وہ پوچھتی ہیں

کوئی پوچھے تو بھلا تان کو لقمان سے کیا نسبت ہے

اور میں کہتا ہوں لقمان کو لقمان کو یا تان کو رہنے دو چلو

اور کوئی بات کریں

اور یوں لیٹے ہی رہتے ہیں کسی کے دل میں

دھیان آتا ہی نہیں

غسل خانے میں قدم رکھیں نہا کر سوئیں

لیٹے لیٹے یوں ہی نیند آتی ہے سو جاتے ہیں

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji