Prof. Syed Mujahid Sajjad

تمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقت

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

تمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقت

اپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں

عورتیں پیچھے رہا کرتی تھیں

اور جو عالم تھے فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب کے

پیچھے پیچھے ہی چلا کرتا تھا

کس لیے سب کو رہ زیست پہ ہر گام بڑھانے والے

سب سے پیچھے ہی چلا کرتے ہیں

علم میں ایک ہی بنیادی کمی ہے ورنہ

علم ہر ایک زمانے میں ہر ایک شے سے ترقی پاتا

آج اقبال یہ کہتا ہے کہ عورت ہی کا شعلہ وہ جس سے یونان

حشر تک علم فلاطون سے رہے گا زندہ

آج اسکول میں کالج میں مقام اول

عورتوں کے لیے مخصوص کیے جاتے ہیں

آج انگریزی پڑھی جاتی ہے جغرافیہ تاریخ ہر اک علم یہاں

ایسے استاد سکھاتا ہے کہ جیسے ہم کو

یہی معلوم نہیں ہے کہ جو عالم تھے جو فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب سے

پیچھے پیچھے ہی بڑھا کرتا تھا

عورتیں ان سے ذرا آگے رہا کرتی تھیں

عورتیں آج بھی آگے ہی رہا کرتی ہیں

عورتیں آج بھی کہتی ہیں ہمارے گیسو

چاہے بکھرے ہوں کہ ایک جوڑے میں پابند کیے بیٹھے ہوں

دیکھنے والوں کی ناکام تمناؤں کو

ایک ہی ہاتھ کے پابند ہوا کرتے ہیں

وہی اک ہاتھ جو تلوار کو پہلو میں لیے

سب سے آگے ہی چلا کرتا ہے

اس کو کچھ علم کی پرواہ نہیں (عورت کی بھی پرواہ کیا ہے)

اس کو کچھ علم نہیں کیسے فلاطوں پل میں

اک شرر بن کے بجھا کرتا ہے

سامنے تو ہے مگر تیرا منور چہرہ

اسی جاہل کو نظر آتا ہے

جو یہ کہتا ہے کہ تیمور کی فوجیں جس وقت

اپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں

عورتیں پیچھے رہا کرتی تھیں

اور جو عالم تھے جو فاضل تھے وہ یہ سوچتے تھے

ہار کس شخص کی ہے جیت ہے کس کی چھوڑو

ہم بھی کن چھوٹی سی باتوں میں الجھ بیٹھے ہیں

چلتے چلتے مجھے تیزی سے خیال آیا ہے

تیرا یہ جوڑا جو کھل جائے بکھر جائے تو پھر کیا ہوگا

میری تاریخ کہ تیری تاریخ

پھیل کر آج پہ (اور کل پہ بھی) چھا جائے گی

سوچنے والے کو اک پل میں بتا جائے گی

عورتیں پیچھے اگر ہوں بھی تو آگے ہی رہا کرتی ہیں

اور فلاطوں کا چچا ہاتھ میں تلوار لیے آگے بڑھا کرتا ہے

لو وہ جوڑا بھی فلاطوں ہی سے کچھ کہنے لگا

اور رستے میں اسے کون ملے گا تیمور

اور وہ اس سے کہے گا کہ یہاں کیوں آئی

جا مرے پیچھے چلی جا کہ ترے پیچھے ہمیشہ ہر دم

علم یوں رینگتے ہی رینگتے بڑھتا جائے

جیسے ہر بات کے پیچھے ہر بات

رینگتے رینگتے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے

اور ہر ایک فلاطوں جو شرر بن کے چمکتا ہے وہ مٹ جاتا ہے

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji