Prof. Syed Mujahid Sajjad

تمہی کو آج مرے روبرو بھی ہونا تھا

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

تمہی کو آج مرے روبرو بھی ہونا تھا

اور ایسے رنگ میں جس کا کبھی گماں بھی نہ ہو

نگاہ تند غضب ناک دل کلام درشت

چمن میں جیسے کسی باغباں کی آنکھوں نے

روش کے ساتھ ہی ننھے سے ایک پودے کو

شگفتہ ہو کے سنورتے نکھرتے دیکھا ہو

مری تمہاری کہانی یہی کہانی ہے

روش پر سر کو اٹھائے ہر ایک سوچ سے دور

میں اپنی دھن میں مگن تھا ہر تازہ قدم

مرے افق پہ چمکتے ہوئے ستارے کی

ہر اک کرن کو مرے پاس لائے جاتا تھا

مجھے نہ خار کا اندیشہ تھا نہ ٹھوکر کا

مگر یہ بھول تھی میری وہ خود فراموشی

مرے ہی سامنے آئی ہے اور صورت میں

نگاہ تند غضب ناک دل کلام درشت

مگر اب اس کی ضرورت نہیں میں سوچتا ہوں

تمہی کو آج مرے روبرو نہ ہونا تھا

جہاں میں اور بھی تھے مجھ سے تم سے بڑھ کے کہیں

جو اجنبی تھے جنہیں اجنبی ہی رہنا تھا

مجھے کسی نے بتایا ہے آپ کے یہ دوست

ہمیشہ رات گئے اپنے گھر کو آتے ہیں

لبوں سے سیٹی بجاتے ہیں گنگناتے ہیں

کسی کی آہ کسی کے کرم سے مٹتی ہے

میں تجھ سے کہتی ہوں بہنا یہ کیا زمانہ ہے

نہ اپنے نام کا کچھ پاس ہے نہ گھر کی لاج

گئے مہینے سے ہر روز رات کو چھپ کر

ہماری بی بی کسی مردوئے سے ملتی ہے

مجھے یہ فکر نہیں نوکروں کو عادت ہے

کہ پر کو کوا بناتے ہیں رائی کا پربت

بس ایک دھیان کسی تیر کی طرح سیدھا

یہ سوچ بن کے مرے دل میں آ ٹھہرتا ہے

یہی ہے جس کا کبھی نام لاجونتی تھا

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji