اب سمجھ آئی مرتبہ سمجھے
کلیاتِ میر
Published 14 October 2026
اب سمجھ آئی مرتبہ سمجھے
گم کیا خود کے تیں خدا سمجھے
اس قدر جی میں ہے دغا اس کے
کہ دعا کریے تو دغا سمجھے
کچھ سمجھتے نہیں ہمارا حال
تم سے بھی اے بتاں خدا سمجھے
غلط اپنا کہ اس جفاجو کو
سادگی سے ہم آشنا سمجھے
نکتہ داں بھی خدا نے تم کو کیا
پر ہمارا نہ مدعا سمجھے
لکھے دفتر کتابیں کیں تصنیف
پر نہ طالع کا ہم لکھا سمجھے
میر صاحب کا ہر سخن ہے رمز
بے حقیقت ہے شیخ کیا سمجھے
میر تقی میر
About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)
میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔
More Urdu poetry by Mir Taqi Mir
- یاں ہم براے بیت (Ghazal)
- ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے (Ghazal)
- مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے (Ghazal)
- اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے (Ghazal)