میر تقی میر
Mir Taqi Mir: Urdu poetry
میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔
50 verses on this site
Ghazal
یاں ہم براے بیت
Ghazal
ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے
Ghazal
مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے
Ghazal
اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے
Ghazal
ہے جنبش لب مشکل جب آن کے وہ بیٹھے
Ghazal
اب سمجھ آئی مرتبہ سمجھے
Ghazal
اب اپنے قد راست کو خم دیکھتے ہیں ہائے
Ghazal
جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے
Ghazal
گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے
Ghazal
ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے
Ghazal
دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے
Ghazal
انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے
Ghazal
گرداب وار یار ترے صدقے جایئے
Ghazal
ٹک ٹھہرنے دے تجھے شوخی تو کچھ ٹھہرایئے
Ghazal
پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے
Ghazal
ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے
Ghazal
شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے
Ghazal
کبھو میر اس طرف آکر جو چھاتی کوٹ جاتا ہے
Ghazal
چمن کو یاد کر مرغ قفس فریاد کرتا ہے
Ghazal
جب نسیم سحر ادھر جا ہے
Ghazal
کچھ بات ہے کہ گل ترے رنگیں دہاں سا ہے
Ghazal
طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے
Ghazal
چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
Ghazal
دل بیتاب آفت ہے بلا ہے
Ghazal
کئی برسوں جگر کا ہی لہو اپنا پیا ہے
Ghazal
کس غم میں مجھ کو یارب یہ مبتلا کیا ہے
Ghazal
باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے
Ghazal
دل مرا مضطرب نہایت ہے
Ghazal
گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے
Ghazal
جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے
Ghazal
جنوں کا عبث میرے مذکور ہے
Ghazal
زلف ہی درہم نہیں ابرو بھی پرخم اور ہے
Ghazal
رشتہ کیا ٹھہرے گا یہ جیسے کہ مو نازک ہے
Ghazal
مستی میں جا و بے جا مدنظر کہاں ہے
Ghazal
ہم مست ہو بھی دیکھا آخر مزہ نہیں ہے
Ghazal
کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے
Ghazal
کیا تن نازک ہے جاں کو بھی حسد جس تن پہ ہے
Ghazal
یہ رات ہجر کی یاں تک تو دکھ دکھاتی ہے
Ghazal
نہ گلشن میں چمن پر ان نے بلبل تجھ کو جا دی ہے
Ghazal
کیا حال بیاں کریے عجب طرح پڑی ہے
Ghazal
کس فتنہ قد کی ایسی دھوم آنے کی پڑی ہے
Ghazal
آنکھیں نہیں یاں کھلتیں ایدھر کو نظر بھی ہے
Ghazal
کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
Ghazal
اس شوخ سے ہمیں بھی اب یاری ہو گئی ہے
Ghazal
کہاں یاد قیس اب جو دنیا کرے ہے
Ghazal
کیا پوچھتے ہو عاشق راتوں کو کیا کرے ہے
Ghazal
ربط دل کو اس بت بے مہر کینہ ور سے ہے
Ghazal
کار دل اس مہ تمام سے ہے
Ghazal
جل گیا دل مگر ایسے جوں بلا نکلے ہے
Ghazal
عبرت سے دیکھ جس جا یاں کوئی گھر بنے ہے