Prof. Syed Mujahid Sajjad

شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے

میر تقی میر

کلیاتِ میر

Published 14 October 2026

شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے

جان کو کوئی کھائے جاتا ہے

ہر کوئی اس مقام میں دس روز

اپنی نوبت بجائے جاتا ہے

کھل گئی بات تھی سو ایک اک پر

تو وہی منھ چھپائے جاتا ہے

یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر

اپنی ٹکّی لگائے جاتا ہے

رویئے کیا دل و جگر کے تئیں

جی بھی یاں پر تو ہائے جاتا ہے

کیا کیا ہے فلک کا میں کہ مجھے

خاک ہی میں ملائے جاتا ہے

تہ جنھیں کچھ ہے ان کے تیں ہر گام

عرق شرم آئے جاتا ہے

جاے عبرت ہے خاکدان جہاں

تو کہاں منھ اٹھائے جاتا ہے

یکھ سیلاب اس بیاباں کا

کیسا سر کو جھکائے جاتا ہے

وہ تو بگڑے ہے میر سے ہر دم

اپنی سی یہ بنائے جاتا ہے

میر تقی میر

About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)

میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔

Read all poetry by Mir Taqi Mir

More Urdu poetry by Mir Taqi Mir