Prof. Syed Mujahid Sajjad

کار دل اس مہ تمام سے ہے

میر تقی میر

کلیاتِ میر

Published 14 October 2026

کار دل اس مہ تمام سے ہے

کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے

تم نہیں فتنہ ساز سچ صاحب

شہر پرشور اس غلام سے ہے

بوسہ لے کر سرک گیا کل میں

کچھ کہو کام اپنے کام سے ہے

کوئی تجھ سا بھی کاش تجھ کو ملے

مدعا ہم کو انتقام سے ہے

کب وہ مغرور ہم سے مل بیٹھا

ننگ جس کو ہمارے نام سے ہے

خوش سرانجام وے ہی ہیں جن کو

اقتدا اولیں امام سے ہے

عر میرے ہیں سب خواص پسند

پر مجھے گفتگو عوام سے ہے

شیطنت سے نہیں ہے خالی شیخ

اس کی پیدائش احتلام سے ہے

سر جھکائوں تو اور ٹیڑھے ہو

کیا تمھیں چڑ مرے سلام سے ہے

سہل ہے میر کا سمجھنا کیا

ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے

میر تقی میر

About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)

میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔

Read all poetry by Mir Taqi Mir

More Urdu poetry by Mir Taqi Mir