Prof. Syed Mujahid Sajjad

دل بیتاب آفت ہے بلا ہے

میر تقی میر

کلیاتِ میر

Published 14 October 2026

دل بیتاب آفت ہے بلا ہے

جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے

ہمارا تو ہے اصل مدعا تو

خدا جانے ترا کیا مدعا ہے

محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاس

ہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے

حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیب

اگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے

نہیں ملتا سخن اپنا کسو سے

ہماری گفتگو کا ڈھب جدا ہے

کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھر

فضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے

مروں میں اس میں یا رہ جائوں جیتا

یہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے

صبا اودھر گل اودھر سرو اودھر

اسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے

تماشا کردنی ہے داغ سینہ

یہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے

ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیں

قیامت جیسے اک اس کی ادا ہے

جگہ افسوس کی ہے بعد چندے

ابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے

جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تم

کہو جو کچھ تمھارا مدعا ہے

سخن کریے تو ہووے حرف زن یوں

بس اب منھ موندلے میں نے سنا ہے

کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالم

اگرچہ یار عالم آشنا ہے

نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہر

پہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے

لگا میں گرد سر پھرنے تو بولا

تمھارا میر صاحب سرپھرا ہے

میر تقی میر

About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)

میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔

Read all poetry by Mir Taqi Mir

More Urdu poetry by Mir Taqi Mir