Prof. Syed Mujahid Sajjad

گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے

میر تقی میر

کلیاتِ میر

Published 14 October 2026

گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے

کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے

ہنستے رہتے تھے جو اس گلزار میں شام و سحر

دیدئہ تر ساتھ لے وے لوگ جوں شبنم گئے

گر ہوا اس باغ کی ہے یہ تو اے بلبل نہ پھول

کوئی دن میں دیکھیو واں وے گئے یاں ہم گئے

کیا کم اس خورشیدرو کی جستجو یاروں نے کی

لوہو روتے جوں شفق پورب گئے پچھم گئے

جی گیا یاں بے دماغی سے انھوں کی اور واں

نے جبیں سے چیں گئی نے ابروئوں سے خم گئے

شاید اب ٹکڑوں نے دل کے قصد آنکھوں کا کیا

کچھ سبب تو ہے جو آنسو آتے آتے تھم گئے

گرچہ ہستی سے عدم تک اک مسافت تھی بعید

پر اٹھے جو ہم یہاں سے واں تلک اک دم گئے

کیا معاش اس غم کدے میں ہم نے دس دن کی بہم

اٹھ کے جس کے ہاں گئے دل کا لیے ماتم گئے

سبزہ و گل خوش نشینی اس چمن کی جن کو تھی

سو بھی تو دیکھا گریباں چاک و مژگاں نم گئے

مردم دنیا بھی ہوتے ہیں سمجھ کس مرتبہ

آن بیٹھے نائوں کو تو یاں نگیں سے جم گئے

ربط صاحب خانہ سے مطلق بہم پہنچا نہ میر

مدتوں سے ہم حرم میں تھے پہ نامحرم گئے

میر تقی میرگل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے

کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے

ہنستے رہتے تھے جو اس گلزار میں شام و سحر

دیدئہ تر ساتھ لے وے لوگ جوں شبنم گئے

گر ہوا اس باغ کی ہے یہ تو اے بلبل نہ پھول

کوئی دن میں دیکھیو واں وے گئے یاں ہم گئے

کیا کم اس خورشیدرو کی جستجو یاروں نے کی

لوہو روتے جوں شفق پورب گئے پچھم گئے

جی گیا یاں بے دماغی سے انھوں کی اور واں

نے جبیں سے چیں گئی نے ابروئوں سے خم گئے

شاید اب ٹکڑوں نے دل کے قصد آنکھوں کا کیا

کچھ سبب تو ہے جو آنسو آتے آتے تھم گئے

گرچہ ہستی سے عدم تک اک مسافت تھی بعید

پر اٹھے جو ہم یہاں سے واں تلک اک دم گئے

کیا معاش اس غم کدے میں ہم نے دس دن کی بہم

اٹھ کے جس کے ہاں گئے دل کا لیے ماتم گئے

سبزہ و گل خوش نشینی اس چمن کی جن کو تھی

سو بھی تو دیکھا گریباں چاک و مژگاں نم گئے

مردم دنیا بھی ہوتے ہیں سمجھ کس مرتبہ

آن بیٹھے نائوں کو تو یاں نگیں سے جم گئے

ربط صاحب خانہ سے مطلق بہم پہنچا نہ میر

مدتوں سے ہم حرم میں تھے پہ نامحرم گئے

میر تقی میر

About Mir Taqi Mir (میر تقی میر)

میر تقی میر (1723 – 1810) اٹھارہویں صدی کے اردو شاعر اور اردو غزل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے زوال کا زمانہ دیکھا اور بعد ازاں لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔

Read all poetry by Mir Taqi Mir

More Urdu poetry by Mir Taqi Mir