Prof. Syed Mujahid Sajjad

درد ہو دل میں تو دوا کیجے

مرزا اسد اللہ خان غالب

دیوانِ غالب

Published 14 October 2026

درد ہو دل میں تو دوا کیجے

دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

ہم کو فریاد کرنی آتی ہے

آپ سنتے نہیں تو کیا کیجے

ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب

توبہ توبہ، خدا خدا کیجے

رنج اٹھانے سے بھی خوشی ہوگی

پہلے دل درد آشنا کیجے

عرضِ شوخی، نشاطِ عالم ہے

حسن کو اور خود نما کیجے

دشمنی ہو چکی بہ قدرِ وفا

اب حقِ دوستی ادا کیجے

موت آتی نہیں کہیں غالب

کب تک افسوس زیست کا کیجے

About Mirza Ghalib (مرزا اسد اللہ خان غالب)

مرزا اسد اللہ خان غالب (1797 – 1869) مغلیہ دور کے آخری عظیم شاعر اور اردو غزل کے بلند ترین معمار مانے جاتے ہیں۔ ان کا دیوان اور خطوط اردو ادب کے شاہکار ہیں۔

Read all poetry by Mirza Ghalib

More Urdu poetry by Mirza Ghalib