دل میرا سوزِنہاں سے بے محابا
دیوانِ غالب
Published 14 October 2026
دل میرا سوزِنہاں سے بے محابا جل گیا
آتش خاموش کی مانند، گویا جل گیا
دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
عرض کیجئے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا
دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار
اِس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالب! کہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا
مرزا اسد اللہ خان غالب
About Mirza Ghalib (مرزا اسد اللہ خان غالب)
مرزا اسد اللہ خان غالب (1797 – 1869) مغلیہ دور کے آخری عظیم شاعر اور اردو غزل کے بلند ترین معمار مانے جاتے ہیں۔ ان کا دیوان اور خطوط اردو ادب کے شاہکار ہیں۔