میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
دیوانِ غالب
Published 14 October 2026
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
تم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی
غیر کی مرگ کا غم کس لئے، اے غیرتِ ماہ!
ہیں ہوس پیشہ بہت، وہ نہ ہُوا، اور سہی
تم ہو بت، پھر تمہیں پندارِ خُدائی کیوں ہے؟
تم خداوند ہی کہلاؤ، خدا اور سہی
حُسن میں حُور سے بڑھ کر نہیں ہونے کی کبھی
آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
تیرے کوچے کا ہے مائل دلِ مضطر میرا
کعبہ اک اور سہی، قبلہ نما اور سہی
کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے، واعظ!
خلد بھی باغ ہے، خیر آب و ہوا اور سہی
کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں، یا رب
سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
مجھ کو وہ دو۔ کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوں
زہر کچھ اور سہی، آبِ بقا اور سہی
مجھ سے غالب یہ علائی نے غزل لکھوائی
ایک بیداد گرِ رنج فزا اور سہی
اسداللہ خان غالب
About Mirza Ghalib (مرزا اسد اللہ خان غالب)
مرزا اسد اللہ خان غالب (1797 – 1869) مغلیہ دور کے آخری عظیم شاعر اور اردو غزل کے بلند ترین معمار مانے جاتے ہیں۔ ان کا دیوان اور خطوط اردو ادب کے شاہکار ہیں۔