Prof. Syed Mujahid Sajjad

منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی

مرزا اسد اللہ خان غالب

دیوانِ غالب

Published 14 October 2026

منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی

اپنا بیان حسنِ طبیعت نہیں مجھے

سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری

کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلحِ کل

ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

کیا کم ہے یہ شرف کہ، ظفرؔ کا غلام ہوں؟

مانا کہ، جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے

استادِ شہ سے، ہو مجھے پر خاش کا خیال

یہ تاب، یہ مجال، یہ طاقت، نہیں مجھے

جامِ جہاں نما، ہے شہنشاہ کا ضمیر

سوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے

میں کون، اور ریختہ! ہاں، اس سے مدعا

جز انبساطِ خاطرِ حضرت نہیں مجھے

سہرا لکھا گیا، ز رہِ امتثالِ امر

دیکھا کہ، چارہ غیرِ اطاعت نہیں مجھے

مقطع میں آ پڑی ہے، سخن گسترانہ بات

مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے

روئے سخن کسی کی طرف ہو، تو رو سیاہ

سودا نہیں، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے

قسمت بری سہی، پہ طبیعت بری نہیں

ہے شکر کی جگہ کہ، شکایت نہیں مجھے

صادق ہوں اپنے قول میں، غالبؔ! خدا گواہ

کہتا ہوں سچ کہ، جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

اسداللہ خان غالب​

About Mirza Ghalib (مرزا اسد اللہ خان غالب)

مرزا اسد اللہ خان غالب (1797 – 1869) مغلیہ دور کے آخری عظیم شاعر اور اردو غزل کے بلند ترین معمار مانے جاتے ہیں۔ ان کا دیوان اور خطوط اردو ادب کے شاہکار ہیں۔

Read all poetry by Mirza Ghalib

More Urdu poetry by Mirza Ghalib