Prof. Syed Mujahid Sajjad

اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

مومن خان مومن

دیوانِ مومن

Published 14 October 2026

اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

زندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو

لکھو سلام غیر کے خط میں غلام کو

بندے کا بس سلام ہے ایسے سلام کو

اب شور ہے مثال جو دی اس خرام کو

یوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو

آتا ہے بہر قتل وہ دور اے ہجوم یاس

گھبرا نہ جاے دیکھ کہیں اژدحام کو

گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے

مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

یاں وصل ہے تلافی ہجراں میں اے فلک

کیوں سوچتا ہے تازہ ستم انتقام کو

تیرے سمند ناز کی بے جا شرارتیں

کرتے ہیں آگ نالۂ اندیشہ کام کو

گریہ پہ میرے زندہ دلو ہنستے کیا ہو آہ

روتا ہوں اپنے میں دل جنت مقام کو

سہ سہ کے نادرست تری خو بگاڑ دی

ہم نے خراب آپ کیا اپنے کام کو

اس سے جلا کے غیر کو امید پختگی

لگ جائے آگ دل کے خیالات خام کو

بخت سپید آئینہ داری کرے تو میں

دکھلاؤں دل کے جور اس آئینہ فام کو

جب تو چلے جنازۂ عاشق کے ساتھ ساتھ

پھر کون وارثوں کے سنے اذن عام کو

شاید کہ دن پھرے ہیں کسی تیرہ روز کے

اب غیر اس گلی میں نہیں پھرتے شام کو

مدت سے نام سنتے تھے مومنؔ کا بارے آج

دیکھا بھی ہم نے اس شعرا کے امام کو​

مومن خان مومن

About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)

مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔

Read all poetry by Momin Khan Momin

More Urdu poetry by Momin Khan Momin