Prof. Syed Mujahid Sajjad

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

مومن خان مومن

دیوانِ مومن

Published 14 October 2026

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

اور ہی رنگ آج ہے عارض گل عذار کا

خون دل اپنا تھا مگر گو نہ رخ طراز میں

کیونکہ نہ آدھی آدھی رات جاگے وہ جس کا دھیان ہو

آہوئے نیم خواب میں نرگس نیم باز میں

خسرو عیش وصل یار جاں کنی اور کوہ کن

اپنا جگر تو خوں ہوا عشق کے امتیاز میں

بن ترے بزم صور میں ہیں یہ قباحتیں کہ ہے

نغمۂ صور کا اثر نغمۂ نے نواز میں

ان سے اب التفات کی غیر کو ہیں شکایتیں

سن کے مرا مبالغہ منت احتراز میں

کیا سبھی سینے جل چکے کیا سبھی دل پگھل چکے

بوئے کباب اب نہیں آہ جگر گداز میں

پردہ نشیں کے عشق میں پردہ دری نہ ہو کہیں

ہوتی ہیں بے حجابیاں جان نہفتہ راز میں

رخنۂ در سے غیر پاس دیکھا کسے کہ آج ہے

رخنہ گری کچھ اور ہی نالۂ رخنہ ساز میں

یاد بتاں میں لاکھ بار فرط قلق سے ہم بھی تو

بیٹھے اٹھے ہیں مومنؔ آپ گر رہے شب نماز میں

About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)

مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔

Read all poetry by Momin Khan Momin

More Urdu poetry by Momin Khan Momin