تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں
دیوانِ مومن
Published 14 October 2026
تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں
ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں
اور ہی رنگ آج ہے عارض گل عذار کا
خون دل اپنا تھا مگر گو نہ رخ طراز میں
کیونکہ نہ آدھی آدھی رات جاگے وہ جس کا دھیان ہو
آہوئے نیم خواب میں نرگس نیم باز میں
خسرو عیش وصل یار جاں کنی اور کوہ کن
اپنا جگر تو خوں ہوا عشق کے امتیاز میں
بن ترے بزم صور میں ہیں یہ قباحتیں کہ ہے
نغمۂ صور کا اثر نغمۂ نے نواز میں
ان سے اب التفات کی غیر کو ہیں شکایتیں
سن کے مرا مبالغہ منت احتراز میں
کیا سبھی سینے جل چکے کیا سبھی دل پگھل چکے
بوئے کباب اب نہیں آہ جگر گداز میں
پردہ نشیں کے عشق میں پردہ دری نہ ہو کہیں
ہوتی ہیں بے حجابیاں جان نہفتہ راز میں
رخنۂ در سے غیر پاس دیکھا کسے کہ آج ہے
رخنہ گری کچھ اور ہی نالۂ رخنہ ساز میں
یاد بتاں میں لاکھ بار فرط قلق سے ہم بھی تو
بیٹھے اٹھے ہیں مومنؔ آپ گر رہے شب نماز میں
About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
More Urdu poetry by Momin Khan Momin
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا (Ghazal)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا (Ghazal)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا (Ghazal)
- ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج (Ghazal)