ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج
دیوانِ مومن
Published 14 October 2026
ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج
ناز کرتی ہے بے قراری آج
اڑ گیا خاک پر غبار اپنا
ہو گئی خاک خاکساری آج
نزع ہے اور روز وعدۂ وصل
ہے بہر طور دم شماری آج
مانع قتل کیوں ہوا دشمن
جان ہی جائے گی ہماری آج
تیرے آتے ہی دم میں دم آیا
ہو گئی یاس امیدواری آج
کوئی بھینچے ہے دل کو پہلو میں
کس نے کی اس سے ہم کناری آج
اس کے شکوے سے ہے اثر ظاہر
کچھ تو کہتی ہے آہ و زاری آج
اک نئی آرزو کا خون ہوا
ہم ہیں اور تازہ سوگواری آج
چھٹ گئے مر کے نیش ہجراں سے
کام آیا ہے زخم کاری آج
بیکسی کیوں ہے نعش پر مجمع
کیا ہوئی تو مری پیاری آج
بھولے حضرت نصیحت اے ناصح
ہے کسی کی تو یادگاری آج
مومنؔ اس بت کو دیکھ آہ بھری
کیا ہوا لاف دین داری آج
About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
More Urdu poetry by Momin Khan Momin
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا (Ghazal)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا (Ghazal)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں (Ghazal)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا (Ghazal)