قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
دیوانِ مومن
Published 14 October 2026
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو يہ ہے بری بلا ہے عشق
اثر غم ذرا بتا دينا
وہ بہت پوچھتے ہيں کيا ہے عشق
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشيں
مرے دل ميں آ چھپا ہے عشق
کس ملاحت سرشت کو چاہا
تلخ کامی پہ با مزا ہے عشق
ہم کو ترجيح تم پہ ہے يعني
دل رہا حسن و جاں رہا عشق
ديکھ حالت مری کہيں کافر
نام دوزخ کا کيوں دھرا ہے عشق
ديکھیے کس جگہ ڈبو دے گا
ميری کشتی کا نا خدا ہے عشق
آپ مجھ سے نباہيں گے سچ ہے
با وفا حسن بے وفا ہے عشق
قيس و فرہاد وامق و مومن
مر گئے سب ہی کيا وبا ہے عشق
مومن خان مومن
About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
More Urdu poetry by Momin Khan Momin
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا (Ghazal)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا (Ghazal)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں (Ghazal)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا (Ghazal)