ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
دیوانِ مومن
Published 14 October 2026
ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
پر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ناصح یہ گلہ کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
تو کب مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
میں بولوں تو چپ ہوتے ہیں اب آپ جبھی تک
یہ رنجش بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کچھ غیر سے ہونٹوں میں کہے ہے یہ جو پوچھو
تو ووہیں مکرتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کب پاس پھٹکنے دوں رقیبوں کو تمہارے
پر پاس تمہارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ناصح کو جو چاہوں تو ابھی ٹھیک بنا دوں
پر خوف خدا کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کیا کیا نہ کہے غیر کی گر بات نہ پوچھو
یہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کیا کہئے نصیبوں کو کہ اغیار کا شکوہ
سن سن کے وہ چپکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
مت پوچھ کہ کس واسطے چپ لگ گئی ظالم
بس کیا کہوں میں کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
چپکے سے ترے ملنے کا گھر والوں میں تیرے
اس واسطے چرچا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ہاں تنگ دہانی کا نہ کرنے کے لیے بات
ہے عذر پر ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
اے چارہ گرو قابل درماں نہیں یہ درد
ورنہ مجھے سو��ا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ہر وقت ہے دشنام ہر اک بات میں طعنہ
پھر اس پہ بھی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کچھ سن کے جو میں چپ ہوں تو تم کہتے ہو بولو
سمجھو تو یہ تھوڑا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
سنتا نہیں وہ ورنہ یہ سرگوشی اغیار
کیا مجھ کو گوارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
مومنؔ بخدا سحر بیانی کا جبھی تک
ہر ایک کو دعویٰ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
More Urdu poetry by Momin Khan Momin
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا (Ghazal)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا (Ghazal)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں (Ghazal)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا (Ghazal)