Prof. Syed Mujahid Sajjad

دیکھ لو شوق نا تمام مرا

مومن خان مومن

دیوانِ مومن

Published 14 October 2026

دیکھ لو شوق نا تمام مرا

غیر لے جائے ہے پیام مرا

بے اثر ہے فغان خون آلود

کیوں نہ ہوئے خراب کام مرا

آتشیں خو سے آرزوئے وصال

پک گیا اب خیال خام مرا

دیکھنا کثرت بلا نوشی

کاسۂ آسماں ہے جام مرا

رتبہ افتادگی کا دیکھو ہے

عرش کے بھی پرے مقام مرا

کس صنم کو چھڑا دیا واعظ

لے خدا تجھ سے انتقام مرا

ہو کے یوسف جو دل چراتے ہو

کون ہو جائے گا غلام مرا

اس لب لعل کی شکایت ہے

کیونکہ رنگیں نہ ہو کلام مرا

تو نے رسوا کیا مجھے اب تک

کوئی بھی جانتا تھا نام مرا

زانوئے بت پہ جان دی دیکھا

مومنؔ انجام و اختتام مرا

بندگی کام آ رہی آخر

میں نہ کہتا تھا کیوں سلام مرا

About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)

مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔

Read all poetry by Momin Khan Momin

More Urdu poetry by Momin Khan Momin