Prof. Syed Mujahid Sajjad

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

مومن خان مومن

دیوانِ مومن

Published 14 October 2026

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

پردہ پوشی ضرور تھی اے چرخ

کیوں شب بوالہوس سیاہ نہ کی

تشنہ لب ایسے ہم گرے مے پر

کہ کبھی سیر عید گاہ نہ کی

اس کو دشمن سے کیا بچائے وہ چرخ

جس نے تدبیر خسف ماہ نہ کی

کون ایسا کہ اس سے پوچھے کیوں

پرسش حال داد خواہ نہ کی

تھا بہت شوق وصل تو نے تو

کمی اے حسن تاب گاہ نہ کی

عشق میں کام کچھ نہیں آتا

گر نہ کی حرص و مال و جاہ نہ کی

تاب کم ظرف کو کہاں تم نے

دشمنی کی عدو سے چاہ نہ کی

میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے

تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

محتسب یہ ستم غریبوں پر

کبھی تنبیہ بادشاہ نہ کی

گریہ و آہ بے اثر دونوں

کس نے کشتی مری تباہ نہ کی

تھا مقدر میں اس سے کم ملنا

کیوں ملاقات گاہ گاہ نہ کی

دیکھ دشمن کو اٹھ گیا بے دید

میرے احوال پر نگاہ نہ کی

مومنؔ اس ذہن بے خطا پر حیف

فکر آمرزش گناہ نہ کی

About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)

مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔

Read all poetry by Momin Khan Momin

More Urdu poetry by Momin Khan Momin