Prof. Syed Mujahid Sajjad

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

مومن خان مومن

دیوانِ مومن

Published 14 October 2026

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

میں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اس کے

قاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا

کرتے جو مجھے یاد شب وصل عدو تم

کیا صبح کہ خورشید نہ تا شام نکلتا

جب جانتے تاثیر کہ دشمن بھی وہاں سے

اپنی طرح اے گردش ایام نکلتا

ہر ایک سے اس بزم میں شب پوچھتے تھے نام

تھا لطف جو کوئی مرا ہم نام نکلتا

کیوں کام طلب ہے مرے آزار سے گردوں

ناکام سے دیکھا ہے کہیں کام نکلتا

تھی نوحہ زنی دل کے جنازے پہ ضروری

شاید کہ وہ گھبرا کے سر بام نکلتا

کانٹا سا کھٹکتا ہے کلیجے میں غم ہجر

یہ خار نہیں دل سے گل اندام نکلتا

حوریں نہیں مومنؔ کے نصیبوں میں جو ہوتیں

بت خانے ہی سے کیوں یہ بد انجام نکلتا

About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)

مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔

Read all poetry by Momin Khan Momin

More Urdu poetry by Momin Khan Momin