اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا
دیوانِ مومن
Published 14 October 2026
اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا
ناصح تو میری جان نہ لے دل گیا گیا
ضد سے وہ پھر رقیب کے گھر میں چلا گیا
اے رشک میری جان گئی تیرا کیا گیا
یہ ضعف ہے تو دم سے بھی کب تک چلا گیا
خود رفتگی کے صدمے سے مجھ کو غش آ گیا
کیا پوچھتا ہے تلخی الفت میں پند کو
ایسی تو لذتیں ہیں کہ تو جان کھا گیا
کچھ آنکھ بند ہوتے ہی آنکھیں سی کھل گئیں
جی اک بلائے جان تھا اچھا ہوا گیا
آنکھیں جو ڈھونڈتی تھیں نگہ ہائے التفات
گم ہونا دل کا وہ مری نظروں سے پا گیا
بوئے سمن سے شاد تھے اغیار بے تمیز
اس گل کو اعتبار نسیم و صبا گیا
آہ سحر ہماری فلک سے پھری نہ ہو
کیسی ہوا چلی یہ کہ جی سنسنا گیا
آتی نہیں بلائے شب غم نگاہ میں
کس مہروش کا جلوہ نظر میں سما گیا
اے جذب دل نہ تھم کہ نہ ٹھہرا وہ شعلہ رو
آیا تو گرم گرم ولیکن جلا گیا
مجھ خانماں خراب کا لکھا کہ جان کر
وہ نامہ غیر کا مرے گھر میں گرا گیا
مہندی ملے گا پاؤں سے دشمن تو آن کر
کیوں میرے تفتہ سینے کو ٹھوکر لگا گیا
بوسہ صنم کی آنکھ کا لیتے ہی جان دی
مومنؔ کو یاد کیا حجر الاسود آ گیا
About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
More Urdu poetry by Momin Khan Momin
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا (Ghazal)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا (Ghazal)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں (Ghazal)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا (Ghazal)