Prof. Syed Mujahid Sajjad

جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ

مومن خان مومن

دیوانِ مومن

Published 14 October 2026

جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ

تو رخ کرے سوئے آئینہ وار آئینہ

کہے ہے دیکھ کے رخسار یار آئینہ

کہ اس صفائی پہ صدقے نثار آئینہ

سیاہ رو نہ کرے ترک الفت گلفام

میں بوالہوس کو دکھاؤں ہزار آئینہ

صفائے دل کی کہاں قدر تیرہ روزی میں

چراغ صبح ہے شب ہائے تار آئینہ

سمجھ لیا مگر اس سبز رنگ کو طوطی

کہ ہے نظارے کا امیدوار آئینہ

وہ سخت جاں ہوں کہ دکھلائیں گر دم مردن

تو توڑ دے کمر کوہسار آئینہ

مقابل اس رخ روشن کے کھل گئی قلعی

نہ ٹھہرا آگ پہ سیماب وار آئینہ

سما رہے ہیں مگر تیرے نو بہ نو جلوے

کہ بن گیا ہے طلسم بہار آئینہ

شکست رنگ پہ مستی میں ہنستے ہیں ہم بھی

دکھائیں گے انہیں وقت خمار آئینہ

مجھے تو کہتے ہو مت دیکھ میری جانب تو

اور آپ دیکھتے ہو بار بار آئینہ

بلا ہے منع وفا نور اڑ گیا ناصح

تو لے کے دیکھ تو رنگ عذار آئینہ

سمجھ تو مومنؔ اگر ناروا ہو خود بینی

تو دیکھیں کاہے کو پرہیزگار آئینہ

About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)

مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔

Read all poetry by Momin Khan Momin

More Urdu poetry by Momin Khan Momin