مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ
دیوانِ مومن
Published 14 October 2026
مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ
دوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ
عاشق تو جانتے ہیں وہ اے دل یہی سہی
ہر چند بے اثر ہے پر آہ و فغاں نہ چھوڑ
اس طبع نازنیں کو کہاں تاب انفعال
جاسوس میرے واسطے اے بد گماں نہ چھوڑ
ناچار دیں گے اور کسی خوب رو کو دل
اچھا تو اپنی خوئے بد اے بد زباں نہ چھوڑ
زخمی کیا عدو کو تو مرنا محال ہے
قربان جاؤں تیرے مجھے نیم جاں نہ چھوڑ
کچھ کچھ درست ضد سے تری ہو چلے ہیں وہ
یک چند اور کج روی اے آسماں نہ چھوڑ
جس کوچہ میں گزار صبا کا نہ ہو سکے
اے عندلیب اس کے لیے گلستاں نہ چھوڑ
گر پھر بھی اشک آئیں تو جانوں کہ عشق ہے
حقہ کا منہ سے غیر کی جانب دھواں نہ چھوڑ
ہوتا ہے اس جحیم میں حاصل وصال جور
مومنؔ عجب بہشت ہے دیر مغاں نہ چھوڑ
About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
More Urdu poetry by Momin Khan Momin
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا (Ghazal)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا (Ghazal)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں (Ghazal)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا (Ghazal)