یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
دیوانِ مومن
Published 14 October 2026
یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
نہ شادی مرگ ہوں کیوں کر ہے مژدہ قتل دشمن کا
کہ گھر میں سے لیے شمشیر وہ روتا نکل آیا
ستم اے گرمی ضبط فغان و آہ چھاتی پر
کبھو بس پڑ گیا چھالا کبھو پھوڑا نکل آیا
کیا زنجیر مجھ کو چارہ گر نے کن دنوں میں جب
عدو کی قید سے وہ شوخ بے پروا نکل آیا
نکل آیا اگر آنسو تو ظالم مت نکال آنکھیں
سنا معذور ہے مضطر نکل آیا نکل آیا
ہمارے خوں بہا کا غیر سے دعویٰ ہے قاتل کو
یہ بعد انفصال اب اور ہی جھگڑا نکل آیا
ہوئی بلبل ثنا خوان دہان تنگ کس گل کی
کہ فروردی میں غنچہ کا منہ اتنا سا نکل آیا
کوئی تیر اس کا دل میں رہ گیا تھا کیا کہ آنکھوں سے
ابھی رونے میں اک پیکان کا ٹکڑا نکل آیا
دم بسمل یہ کس کے خوف سے ہم پی گئے آنسو
کہ ہر زخم بدن سے خون کا دریا نکل آیا
خدنگ یار کے ہم راہ نکلی جان سینے سے
یہی ارمان اک مدت سے جی میں تھا نکل آیا
بہت نازاں ہے تو اے قیس پر وحشت دکھاؤں گا
کتابوں میں کبھو قصہ جو مومنؔ کا نکل آیا
About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
More Urdu poetry by Momin Khan Momin
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا (Ghazal)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا (Ghazal)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں (Ghazal)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا (Ghazal)