Prof. Syed Mujahid Sajjad

بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلا

مصطفیٰ زیدی

کلیاتِ مصطفیٰ زیدی

Published 15 October 2026

بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلا

کھل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کھلا

در توبہ سے بگولوں کی طرح گزرے لوگ

ابر کی طرح امڈ آئے جو مے خانہ کھلا

شہر در شہر پھری میری گناہوں کی بیاض

بعض نظروں پہ مرا سوز حکیمانہ کھلا

نازنینوں میں رسائی کا یہ عالم تھا کبھی

لاکھ پہروں میں بھی دروازے پہ دروازہ کھلا

ہم پری زادوں میں کھیلے شب افسوں میں پلے

ہم سے بھی تیرے طلسمات کا عقدہ نہ کھلا

ایک اک شکل کو دیکھا ہے بڑی حسرت سے

اجنبی کون ہے اور کون شناسا نہ کھلا

ریت پر پھینک گئی عقل کی گستاخ لبی

پھر کبھی کشف و کرامات کا دریا نہ کھلا

About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)

مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔

Read all poetry by Mustafa Zaidi

More Urdu poetry by Mustafa Zaidi