Prof. Syed Mujahid Sajjad

مری رفیق طرب گاہ تیری آمد پر

مصطفیٰ زیدی

کلیاتِ مصطفیٰ زیدی

Published 15 October 2026

مری رفیق طرب گاہ تیری آمد پر

نئے سروں میں نئے گیت گائے تھے میں نے

نفس نفس میں جلا کر امید کے دیپک

قدم قدم پہ ستارے بچھائے تھے میں نے

ہوا کے لوچ گلی سے نکھار مانگا تھا

ترے جمال کا چہرہ سنوارنے کے لئے

کنول کنول سے خریدی تھی حسرت دیدار

نظر نظر کو جگر میں اتارنے کے لئے

بہت سے گیت چھلکتے رہے افق کے قریب

بہت سے پھول برستے رہے فضاؤں میں

الجھ الجھ گئی مجروح زیست کی گرہیں

بکھر بکھر گئیں انگڑائیاں خلاؤں میں

میں پوچھتا ہوں کہ اے رنگ و نور کی دیوی

علاج تیرہ شبی کیا اسی کو کہتے ہیں

بجھے بجھے سے یہ مفلس دیے نہ جانے کیا

سلگ سلگ کے تری بے حسی کو کہتے ہیں

یہ گیت سر بہ گریباں ہیں تیرے جانے سے

یہ نو عروس ستارے بڑھا رہے ہیں سہاگ

کلی کلی کو تری بے رخی کا شکوہ ہے

نفس نفس سے نکلتی ہے ایک ایسی آگ

جسے بجھاؤں تو دل زمہریر ہو جائے

ترا عظیم تصور حقیر ہو جائے

About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)

مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔

Read all poetry by Mustafa Zaidi

More Urdu poetry by Mustafa Zaidi