ایک دل اور اتنے بار گراں
کلیاتِ مصطفیٰ زیدی
Published 15 October 2026
ایک دل اور اتنے بار گراں
اونگھتے پیڑ سرنگوں گلیاں
مضمحل نور مضمحل خوشیاں
ان گنت خواب ان گنت ارماں
بے مہک پھول ادھ کھلی کلیاں
بادشاہوں کا قصۂ من و تو
تیرہ سکوں کا تیرہ تر جادو
سرخ تاریکیاں سیاہ لہو
منتشر رات منتشر گیسو
بے اثر آہ بے اثر آنسو
ذہن کی قبر دل کا ویرانہ
فکر روزی تلاش مے خانہ
کوئی با عقل کوئی دیوانہ
میری تحقیق اس کا افسانہ
زرد بتی اداس پروانہ
الغرض اک نہ اک غم گل و خار
فلسفے کا خمار عشق کا بار
دل کو اک صبح و شام کا آزار
حسرت صلح و حسرت پیکار
صید ابلیس و کشتۂ یزداں
About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)
مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔