جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوت
کلیاتِ مصطفیٰ زیدی
Published 15 October 2026
جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوت
آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے
جو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہے
ان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگی
سوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگر
جاگتے جاگتے سو جائے گا مدھم آکاش
اس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہ
کسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گا
ایک تارا نظر آئے گا کسی چلمن میں
ایک آنسو کسی بستر پہ بکھر جائے گا
ہاں مگر تیرا یہ بیمار کدھر جائے گا
میں نے اک نظم میں لکھا تھا کہ اے روح وفا
چارہ سازی ترے ناخن کی رہین منت
غم گساری تری پلکوں کی روایات میں ہے
ایک چھوٹی ہی سی امید طرب زار سہی
ایک جگنو کا اجالا مری برسات میں ہے
لذت عارض و لب ساعت تکمیل وصال
میری تقدیر میں ہے اور تری بات میں ہے
دیر سے، کعبے سے، ادراک سے بھی اکتا کر
آج تک دل کو اجالے کی طلب ہوتی ہے
ایک دن آئے گا جب اور بھی عریاں ہو کر
آدمی جینے کو تھوڑی سی ضیا مانگے گا
گیت کے، پھول کے، اشعار کے، افسانوں کے
آج تک ہم نے بنائے ہیں کھلونے کتنے
یہ کھلونے بھی نہ ہوتے تو ہمارا بچپن
سوچتا ہوں کہ گزرتا تو گزرتا کیسے
آدمی زیست کے سیلاب سے لڑتے لڑتے
بیچ منجدھار میں آتا تو ابھرتا کیسے
دیر سے روح پہ اک خواب گراں طاری ہے
آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے
آج پھر دوش تمنا پہ ہے دل کا تابوت
جاگ اے نرم نگاہی کے مسیحانہ سکوت
ورنہ انسان کی فطرت کا تلون مت پوچھ
اس سن و سال کا مغرور لڑکپن مت پوچھ
آدمی تیری اس افتاد سے بد دل ہو کر
اور دو چار خداؤں کے علم پوجے گا
اور اک روز اس انداز سے بھی اکتا کر
اپنے بے نام خیالوں کے صنم پوجے گا
About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)
مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔