یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں
کلیاتِ مصطفیٰ زیدی
Published 15 October 2026
یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں
اب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی
موم بتی کی روشنی میں نظر
حافظے کے ورق الٹتی تھی
ریت کے سوگوار ٹیلوں پر
چاندنی رات بھر بھٹکتی تھی
آج لیکن تھکے ہوئے دل پر
جسم کا تار تار بھاری ہے
شام کی دم بخود ہواؤں پر
صبح کا انتظار بھاری ہے
مقبروں سے اٹھی ہوئی آندھی
ٹہنیوں سے الجھ کے چلتی ہے
خشک پلکوں پہ آنسوؤں کی امید
پے بہ پے کروٹیں بدلتی ہے
ایک اک عکس سانس لیتا ہے
ایک اک یاد آنکھ ملتی ہے
جیسے صحرا میں سر جھکائے ہوئے
حاجیوں کی قطار چلتی ہے
زرد چنگاریوں کے دامن میں
یوں سلگتا ہے سرد آتش دان
جیسے بچوں کی بھوک کے آگے
ایک نادار باپ کا ایمان
دم بخود خامشی میں دھیرے سے
زرد پتے قدم اٹھاتے ہیں
یاد کے کارواں اندھیرے میں
خواب کی طرح سرسراتے ہیں
کھڑکیوں کے ڈرے ہوئے چہرے
اپنی آہٹ سے کانپ جاتے ہیں
دل کی قربان گاہ کے آگے
ایک ٹوٹا ہوا دیا بھی نہیں
کسی پیپل کے نرم سائے میں
کوئی پتھر کا دیوتا بھی نہیں
روح کے کاسۂ گدائی کو
چار ٹکڑوں کا آسرا بھی نہیں
لمبی چوڑی سڑک کے دامن پر
قمقمے سہمے سہمے جلتے ہیں
جیسے اکثر بڑے گھرانوں میں
فاقہ کش رشتہ دار پلتے ہیں
سوچتا ہوں کہ اس دیار سے دور
ایک ایسا بھی دیس ہے جس کی
رات تاروں میں سج کے آئے گی
صبح ہوگی تو گھر کے گوشوں میں
تیری معصوم مسکراہٹ کی
نرم سی دھوپ پھیل جائے گی
About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)
مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔