نگار شام غم میں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوں
کلیاتِ مصطفیٰ زیدی
Published 15 October 2026
نگار شام غم میں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوں
گلے مل لے کہ یوں ملنے کی نوبت پھر نہ آئے گی
سر راہے جو ہم دونوں کہیں مل بھی گئے تو کیا
یہ لمحے پھر نہ لوٹیں گے یہ ساعت پھر نہ آئے گی
کہ میں اب صرف ان گزرے ہوئے لمحوں کا سایہ ہوں
اسی بازار میں بارہ برس ہونے کو آئے ہیں
کہ میں نے فاسٹس کی طرح اپنی روح بیچی تھی
مسرت کی مسلسل گردش یکساں سے اکتا کر
تجھے حاصل کیا تھا اور ہر صورت بھلا دی تھی
پرانے ساز و ساماں اب مجھے رونے کو آئے ہیں
غضب کی تیرگی ہے راستہ دیکھا نہیں جاتا
ہوا کے شور میں دریا کی موجیں بڑھتی جاتی ہیں
زمیں سے اکھڑے جاتے ہیں درختوں کے قدم پیہم
چٹانیں روپ بدلے زیر لب کچھ پڑھتی جاتی ہیں
اب اپنی انگلیوں کا فاصلہ دیکھا نہیں جاتا
جرس کی نغمگی آواز ماتم ہوتی جاتی ہے
وہی معمول کے بت ہیں وہی لمحوں کی ویرانی
ذرا سی دیر میں یہ دھڑکنیں بھی ڈوب جائیں گی
مری آنکھوں تک آ پہنچا ہے اب بہتا ہوا پانی
تری آواز مدھم اور مدھم ہوتی جاتی ہے
About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)
مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔