Prof. Syed Mujahid Sajjad

میں اسپتال کے بستر پہ تم سے اتنی دور

مصطفیٰ زیدی

کلیاتِ مصطفیٰ زیدی

Published 15 October 2026

میں اسپتال کے بستر پہ تم سے اتنی دور

یہ سوچتا ہوں کہ ایسی عجیب دنیا میں

نہ جانے آج کے دن کیا نہیں ہوا ہوگا

کسی نے بڑھ کے ستارے قفس کیے ہوں گے

کسی کے ہات میں مہتاب آ گیا ہوگا

جلائی ہوں گی کسی کے نفس نے قندیلیں

کسی کی بزم میں خورشید ناچتا ہوگا

کسی کو ذہن کا چھوٹا سا تازیانہ بہت

کسی کو دل کی کشاکش کا حوصلہ ہوگا

نہ جانے کتنے ارادے ابھر رہے ہوں گے

نہ جانے کتنے خیالوں کا دل بڑھا ہوگا

تمہاری پھول سی فطرت کی سطح نرم سے دور

پہاڑ ہوں گے سمندر کا راستہ ہوگا

یہ ایک فرض کا ماحول فرض کا سنگیت

یہ اسپتال کے آنسو یہ اسپتال کی ریت

مرے قریب بہت سے مریض اور بھی ہیں

پکارتی ہوئی آنکھیں کراہتے ہوئے دل

بہت عزیز ہے ان سب کو زندگی اپنی

یہ اپنی زیست کا احساس کیسی نعمت ہے

مگر مجھے یہی الجھن کہ زندگی کی یہ بھیک

جو مل گئی بھی تو کتنی ذرا سی بات ملی

کسی کے ہات میں مہتاب آ گیا بھی تو کیا

کسی کے قدموں میں سورج کا سر جھکا بھی تو کیا

ہوا ہی کیا جو یہ چھوٹی سی کائنات ملی؟

مرے وجود کی گہری خموش ویرانی

تمہیں یہاں کے اندھیرے کا علم کیا ہوگا

تمہیں تو صرف مقدر سے چاند رات ملی

About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)

مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔

Read all poetry by Mustafa Zaidi

More Urdu poetry by Mustafa Zaidi