صبا ہمارے رفیقوں سے جا کے یہ کہنا
کلیاتِ مصطفیٰ زیدی
Published 15 October 2026
صبا ہمارے رفیقوں سے جا کے یہ کہنا
بصد تشکر و اخلاص و حسن و خوش ادبی
کہ جو سلوک بھی ہم پر روا ہوا اس میں
نہ کوئی رمز نہاں ہے، نہ کوئی بوالعجبی
ہمارے واسطے یہ رات بھی مقدر تھی
کہ حرف آئے ستاروں پہ بے چراغی کا
لباس چاک پہ تہمت قبائے زریں کی
دل شکستہ پہ الزام بد دماغی کا
صبا جو راہ میں دشمن ملیں تو فرمانا
کہ یہ تو کچھ نہ کیا ہو سکے تو اور کرے
کہ اپنے دست لہو رنگ پر نظر ڈالے
کہ اپنے دعویٔ معصومیت پہ غور کرے
حدیث ہے کہ اصولاً گناہ گار نہ ہوں
گناہ گار پہ پتھر سنبھالنے والے
اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر نظر رکھیں
ہماری آنکھ سے کانٹے نکالنے والے
About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)
مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔