ہم اک چائے کی میز پہ آ کر
کلیاتِ مصطفیٰ زیدی
Published 15 October 2026
ہم اک چائے کی میز پہ آ کر
عشق کا قصہ لے بیٹھے تھے
ہر خاتون بڑی کومل تھی
مرد نہایت دل والے تھے
معتبران شہر میں اک نے
اس کو فلاطونی ٹھہرایا
ان کی شریک حیات نے اس پر
طنز سے ''جی اچھا!'' فرمایا
پادریوں میں اک یہ بولے
عشق گھریلو ہو نہ تو اس سے
نظم شکم برہم ہوتا ہے
اک لڑکی نے پوچھا ''کیسے؟''
اک خاتون نے یہ فرمایا
عشق میں ہے تلوار کی تیزی
اور اس دوران میں اٹھ کر
چائے کی پیالی شوہر کو دی
ایک گوشہ بالکل خالی تھا
تم بھی جو آتیں ہم مل رہتے
عشق کا مطلب سب پا جاتے
گو ہم منہ سے کچھ بھی نہ کہتے
About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)
مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔