اپنے سینے میں دبائے ہوئے لاکھوں شعلے
کلیاتِ مصطفیٰ زیدی
Published 15 October 2026
اپنے سینے میں دبائے ہوئے لاکھوں شعلے
شبنم و برف کے نغمات سنائے میں نے
زیست کے نوحۂ پیہم سے چرا کر آنکھیں
گیت جو گا نہ سکے کوئی وہ گائے میں نے
آج تشبیہ و کنایات کا دل ٹوٹ گیا
آج میں جو بھی کہوں گا وہ حقیقت ہوگی
آنچ لہرائے گی ہر بوند سے پیمانے کی
میرے سائے کو مری شکل سے وحشت ہوگی
غم دوراں نے غم دل کا سکوں چھین لیا
اب ترے پیار میں بھی پیار کے انداز نہیں
شوق کے قلعۂ تاریک میں ہے سناٹا
کوئی آواز نہیں کوئی بھی آواز نہیں
کیسے سمجھاؤں کہ الفت ہی نہیں حاصل عمر
حاصل عمر اس الفت کا مداوا بھی تو ہے
زندگی حسرت خس خانہ و برفاب سہی
کچھ دہکتے ہوئے شعلوں کی تمنا بھی تو ہے
تو مرا خواب ہے آدرش ہے لیکن مجھ کو
تیرے اس قصر طرب ناک سے جانا ہوگا
آگ اور خون اگلتے ہوئے سیارے کو
پھر ترا قصر طرب ناک بنانا ہوگا
About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)
مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔