دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
کلیاتِ ناصر کاظمی
Published 15 October 2026
دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
یاد نے کنکر پھینکا ہوگا
آج تو میرا دل کہتا ہے
تو اس وقت اکیلا ہوگا
میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے
اوروں کو خط لکھتا ہوگا
بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں
تو اب تھک کر سویا ہوگا
زرد کھجوروں کے جنگل میں
نور کا دریا بہتا ہوگا
ریل کی گہری سیٹی سن کر
رات کا جنگل گونجا ہوگا
شہر کے سونے اسٹیشن پر
کوئی مسافر اترا ہوگا
لمبی بل کھاتی گلیوں میں
اک سایا سا پھرتا ہوگا
آنگن میں پھر چڑیاں بولیں
تو اب سو کر اٹھا ہوگا
بال جھٹکتے آنکھیں ملتے
گھر کا دریچہ کھولا ہوگا
یادوں کی جلتی شبنم سے
پھول سا چہرا دھوتا ہوگا
موتی جیسی شکل بنا کر
آئینے کو تکتا ہوگا
دروازے پر دستک سن کر
تو کس ناز سے پہنچا ہوگا
میں نہ سہی کوئی مجھ سا پاگل
تجھ کو بلانے آیا ہوگا
دھیان میں تجھ کو دیکھ رہا ہوں
تو اب گھر سے نکلا ہوگا
بستی کے ملنے والوں سے
کیا کیا باتیں کرتا ہوگا
میں نے جنہیں کبھی منہ نہ لگایا
تو اب ان سے ملتا ہوگا
شام ہوئی اب تو بھی شاید
اپنے گھر کو لوٹا ہوگا
شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو
میرا سلام تو بھیجا ہوگا
پیاسی کرلاتی کونجوں نے
میرا دکھ تو سنایا ہوگا
میرا ساتھی شام کا تارا
تجھ سے آنکھ ملاتا ہوگا
نیلی دھندھلی خاموشی میں
تاروں کی دھن سنتا ہوگا
میں تو آج بہت رویا ہوں
تو بھی شاید رویا ہوگا
ناصرؔ تیرا میت پرانا
تجھ کو یاد تو آتا ہوگا
About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)
ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔
More Urdu poetry by Nasir Kazmi
- رات سنسان آدمی نہ دیا (Nazm)
- موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ (Ghazal)
- ہنستے گاتے روتے پھول (Ghazal)
- گرد نے خیمہ تان لیا تھا (Ghazal)