ناصر کاظمی
Nasir Kazmi: Urdu poetry
ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔
114 verses on this site
Nazm
رات سنسان آدمی نہ دیا
Ghazal
موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ
Ghazal
ہنستے گاتے روتے پھول
Ghazal
گرد نے خیمہ تان لیا تھا
Ghazal
ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا
Ghazal
شعلہ سا پیچ و تاب میں دیکھا
Ghazal
اب ان سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتا
Ghazal
کنج کنج نغمہ زن بسنت آ گئی
Ghazal
شبنم آلود پلک یاد آئی
Ghazal
دور فلک جب دہراتا ہے موسم گل کی راتوں کو
Ghazal
رہ جنوں میں خدا کا حوالہ کیا کرتا
Ghazal
غم فرصتی خواب طرب یاد رہے گی
Ghazal
جب تلک دم رہا ہے آنکھوں میں
Ghazal
جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہے
Ghazal
جلوہ ساماں ہے رنگ و بو ہم سے
Ghazal
محروم خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی
Ghazal
کوئی صورت آشنا اپنا نہ بیگانہ کوئی
Ghazal
فکر تعمیر آشیاں بھی ہے
Ghazal
حاصل عشق ترا حسن پشیماں ہی سہی
Ghazal
دن کا پھول ابھی جاگا تھا
Ghazal
جرم امید کی سزا ہی دے
Ghazal
پردے میں ہر آواز کے شامل تو وہی ہے
Ghazal
دھوپ تھی اور بادل چھایا تھا
Ghazal
خموشی انگلیاں چٹخا رہی ہے
Ghazal
یہ ستم اور کہ ہم پھول کہیں خاروں کو
Ghazal
قفس کو چمن سے سوا جانتے ہیں
Ghazal
کوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے روبرو کوئی اور ہے
Ghazal
یہ بھی کیا شام ملاقات آئی
Ghazal
خیال ترک تمنا نہ کر سکے تو بھی
Ghazal
کیوں غم رفتگاں کرے کوئی
Ghazal
میں جب تیرے گھر پہنچا تھا
Ghazal
پچھلے پہر کا سناٹا تھا
Ghazal
حسن کو دل میں چھپا کر دیکھو
Ghazal
رہ نورد بیابان غم صبر کر صبر کر
Ghazal
یہ رات تمہاری ہے چمکتے رہو تارو
Ghazal
دن ڈھلا رات پھر آ گئی سو رہو سو رہو
Ghazal
روتے روتے کون ہنسا تھا
Ghazal
رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ
Ghazal
نئے دیس کا رنگ نیا تھا
Ghazal
ممکن نہیں متاع سخن مجھ سے چھین لے
Ghazal
زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا
Ghazal
پھول خوشبو سے جدا ہے اب کے
Ghazal
پتھر کا وہ شہر بھی کیا تھا
Ghazal
سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
Ghazal
تری نگاہ کے جادو بکھرتے جاتے ہیں
Ghazal
ساز ہستی کی صدا غور سے سن
Ghazal
پل پل کانٹا سا چبھتا تھا
Ghazal
مجھ کو اور کہیں جانا تھا
Ghazal
تو اسیر بزم ہے ہم سخن تجھے ذوق نالۂ نے نہیں
Ghazal
تجھ بن گھر کتنا سونا تھا
Ghazal
خواب میں رات ہم نے کیا دیکھا
Ghazal
نصیب عشق دل بے قرار بھی تو نہیں
Ghazal
تو ہے یا تیرا سایا ہے
Ghazal
کارواں سست راہبر خاموش
Ghazal
دفعتاً دل میں کسی یاد نے لی انگڑائی
Ghazal
یہ شب یہ خیال و خواب تیرے
Ghazal
کسی کا درد ہو دل بے قرار اپنا ہے
Ghazal
ان سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے
Ghazal
جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے
Ghazal
بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جا نکلے
Ghazal
سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا
Ghazal
کل جنہیں زندگی تھی راس بہت
Ghazal
دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے
Ghazal
تنہائی کا دکھ گہرا تھا
Ghazal
درد کم ہونے لگا آؤ کہ کچھ رات کٹے
Ghazal
یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے
Ghazal
ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں
Ghazal
تو جب میرے گھر آیا تھا
Ghazal
آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
Ghazal
کب تلک مدعا کہے کوئی
Ghazal
اولیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کو
Ghazal
اس دنیا میں اپنا کیا ہے
Ghazal
کچھ تو احساس زیاں تھا پہلے
Ghazal
او میرے مصروف خدا
Ghazal
یاد آتا ہے روز و شب کوئی
Ghazal
تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا
Ghazal
گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
Ghazal
آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
Ghazal
کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے
Ghazal
تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی
Ghazal
وہ اس ادا سے جو آئے تو کیوں بھلا نہ لگے
Ghazal
جب رات گئے تری یاد آئی سو طرح سے جی کو بہلایا
Ghazal
ترے خیال سے لو دے اٹھی ہے تنہائی
Ghazal
کون اس راہ سے گزرتا ہے
Ghazal
دیکھ محبت کا دستور
Ghazal
دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا
Ghazal
تم آ گئے ہو تو کیوں انتظار شام کریں
Ghazal
شہر سنسان ہے کدھر جائیں
Ghazal
گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
Ghazal
ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
Ghazal
سفر منزل شب یاد نہیں
Ghazal
اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں ہم
Ghazal
میں ہوں رات کا ایک بجا ہے
Ghazal
گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل
Ghazal
عشق جب زمزمہ پیرا ہوگا
Ghazal
مسلسل بیکلی دل کو رہی ہے
Ghazal
میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
Ghazal
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
Ghazal
آج تو بے سبب اداس ہے جی
Ghazal
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
Ghazal
دل میں اور تو کیا رکھا ہے
Ghazal
کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
Ghazal
وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
Ghazal
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
Ghazal
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
Ghazal
وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
Ghazal
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
Ghazal
دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
Ghazal
اپنی دھن میں رہتا ہوں
Ghazal
غم ہے یا خوشی ہے تو
Ghazal
نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
Ghazal
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
Ghazal
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
Ghazal
نیت شوق بھر نہ جائے کہیں