نصیب عشق دل بے قرار بھی تو نہیں
کلیاتِ ناصر کاظمی
Published 15 October 2026
نصیب عشق دل بے قرار بھی تو نہیں
بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں
تلافیٔ ستم روزگار کون کرے
تو ہم سخن بھی نہیں راز دار بھی تو نہیں
زمانہ پرسش غم بھی کرے تو کیا حاصل
کہ تیرا غم غم لیل و نہار بھی تو نہیں
تری نگاہ تغافل کو کون سمجھائے
کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار بھی تو نہیں
تو ہی بتا کہ تری خامشی کو کیا سمجھوں
تری نگاہ سے کچھ آشکار بھی تو نہیں
وفا نہیں نہ سہی رسم و راہ کیا کم ہے
تری نظر کا مگر اعتبار بھی تو نہیں
اگرچہ دل تری منزل نہ بن سکا اے دوست
مگر چراغ سر رہ گزار بھی تو نہیں
بہت فسردہ ہے دل کون اس کو بہلائے
اداس بھی تو نہیں بے قرار بھی تو نہیں
تو ہی بتا ترے بے خانماں کدھر جائیں
کہ راہ میں شجر سایہ دار بھی تو نہیں
فلک نے پھینک دیا برگ گل کی چھاؤں سے دور
وہاں پڑے ہیں جہاں خار زار بھی تو نہیں
جو زندگی ہے تو بس تیرے درد مندوں کی
یہ جبر بھی تو نہیں اختیار بھی تو نہیں
وفا ذریعۂ اظہار غم سہی ناصرؔ
یہ کاروبار کوئی کاروبار بھی تو نہیں
About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)
ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔
More Urdu poetry by Nasir Kazmi
- رات سنسان آدمی نہ دیا (Nazm)
- موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ (Ghazal)
- ہنستے گاتے روتے پھول (Ghazal)
- گرد نے خیمہ تان لیا تھا (Ghazal)