Prof. Syed Mujahid Sajjad

ترے خیال سے لو دے اٹھی ہے تنہائی

ناصر کاظمی

کلیاتِ ناصر کاظمی

Published 15 October 2026

ترے خیال سے لو دے اٹھی ہے تنہائی

شب فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی

تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی

انہیں بھی دیکھ جنہیں راستے میں نیند آئی

پکار اے جرس کاروان صبح طرب

بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی

ٹھہر گئے ہیں سر راہ خاک اڑانے کو

مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی

رہ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لیے

یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی

یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا

کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی

دل فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اٹھا

یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی

میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا

تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اٹھا

تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی

کھلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا

وہ لوگ تھے نہ وہ جلسے نہ شہر رعنائی

وہ تاب درد وہ سودائے انتظار کہاں

انہی کے ساتھ گئی طاقت شکیبائی

پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصرؔ

بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی

About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)

ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔

Read all poetry by Nasir Kazmi

More Urdu poetry by Nasir Kazmi