Prof. Syed Mujahid Sajjad

رہ نورد بیابان غم صبر کر صبر کر

ناصر کاظمی

کلیاتِ ناصر کاظمی

Published 15 October 2026

رہ نورد بیابان غم صبر کر صبر کر

کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر

بے نشاں ہے سفر رات ساری پڑی ہے مگر

آ رہی ہے صدا دم بدم صبر کر صبر کر

تیری فریاد گونجے گی دھرتی سے آکاش تک

کوئی دن اور سہہ لے ستم صبر کر صبر کر

تیرے قدموں سے جاگیں گے اجڑے دلوں کے ختن

پا شکستہ غزال حرم صبر کر صبر کر

شہر اجڑے تو کیا ہے کشادہ زمین خدا

اک نیا گھر بنائیں گے ہم صبر کر صبر کر

یہ محلات شاہی تباہی کے ہیں منتظر

گرنے والے ہیں ان کے علم صبر کر صبر کر

دف بجائیں گے برگ و شجر صف بہ صف ہر طرف

خشک مٹی سے پھوٹے گا نم صبر کر صبر کر

لہلہائیں گی پھر کھیتیاں کارواں کارواں

کھل کے برسے گا ابر کرم صبر کر صبر کر

کیوں پٹکتا ہے سر سنگ سے جی جلا ڈھنگ سے

دل ہی بن جائے گا خود صنم صبر کر صبر کر

پہلے کھل جائے دل کا کنول پھر لکھیں گے غزل

کوئی دم اے صریر قلم صبر کر صبر کر

درد کے تار ملنے تو دے ہونٹ ہلنے تو دے

ساری باتیں کریں گے رقم صبر کر صبر کر

دیکھ ناصرؔ زمانے میں کوئی کسی کا نہیں

بھول جا اس کے قول و قسم صبر کر صبر کر

About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)

ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔

Read all poetry by Nasir Kazmi

More Urdu poetry by Nasir Kazmi