تو اسیر بزم ہے ہم سخن تجھے ذوق نالۂ نے نہیں
کلیاتِ ناصر کاظمی
Published 15 October 2026
تو اسیر بزم ہے ہم سخن تجھے ذوق نالۂ نے نہیں
ترا دل گداز ہو کس طرح یہ ترے مزاج کی لے نہیں
ترا ہر کمال ہے ظاہری ترا ہر خیال ہے سرسری
کوئی دل کی بات کروں تو کیا ترے دل میں آگ تو ہے نہیں
جسے سن کے روح مہک اٹھے جسے پی کے درد چہک اٹھے
ترے ساز میں وہ صدا نہیں ترے میکدے میں وہ مے نہیں
کہاں اب وہ موسم رنگ و بو کہ رگوں میں بول اٹھے لہو
یوں ہی ناگوار چبھن سی ہے کہ جو شامل رگ و پے نہیں
ترا دل ہو درد سے آشنا تو یہ نالہ غور سے سن ذرا
بڑا جاں گسل ہے یہ واقعہ یہ فسانہ جم و کے نہیں
میں ہوں ایک شاعر بے نوا مجھے کون چاہے مرے سوا
میں امیر شام و عجم نہیں میں کبیر کوفہ و رے نہیں
یہی شعر ہیں مری سلطنت اسی فن میں ہے مجھے عافیت
مرے کاسۂ شب و روز میں ترے کام کی کوئی شے نہیں
About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)
ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔
More Urdu poetry by Nasir Kazmi
- رات سنسان آدمی نہ دیا (Nazm)
- موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ (Ghazal)
- ہنستے گاتے روتے پھول (Ghazal)
- گرد نے خیمہ تان لیا تھا (Ghazal)