وہ اس ادا سے جو آئے تو کیوں بھلا نہ لگے
کلیاتِ ناصر کاظمی
Published 15 October 2026
وہ اس ادا سے جو آئے تو کیوں بھلا نہ لگے
ہزار بار ملو پھر بھی آشنا نہ لگے
کبھی وہ خاص عنایت کہ سو گماں گزرے
کبھی وہ طرز تغافل کہ محرمانہ لگے
وہ سیدھی سادی ادائیں کہ بجلیاں برسیں
وہ دلبرانہ مروت کہ عاشقانہ لگے
دکھاؤں داغ محبت جو ناگوار نہ ہو
سناؤں قصۂ فرقت اگر برا نہ لگے
بہت ہی سادہ ہے تو اور زمانہ ہے عیار
خدا کرے کہ تجھے شہر کی ہوا نہ لگے
بجھا نہ دیں یہ مسلسل اداسیاں دل کو
وہ بات کر کہ طبیعت کو تازیانہ لگے
جو گھر اجڑ گئے ان کا نہ رنج کر پیارے
وہ چارہ کر کہ یہ گلشن اجاڑ سا نہ لگے
عتاب اہل جہاں سب بھلا دیے لیکن
وہ زخم یاد ہیں اب تک جو غائبانہ لگے
وہ رنگ دل کو دیے ہیں لہو کی گردش نے
نظر اٹھاؤں تو دنیا نگار خانہ لگے
عجیب خواب دکھاتے ہیں نا خدا ہم کو
غرض یہ ہے کہ سفینہ کنارے جا نہ لگے
لیے ہی جاتی ہے ہر دم کوئی صدا ناصرؔ
یہ اور بات سراغ نشان پا نہ لگے
About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)
ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔
More Urdu poetry by Nasir Kazmi
- رات سنسان آدمی نہ دیا (Nazm)
- موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ (Ghazal)
- ہنستے گاتے روتے پھول (Ghazal)
- گرد نے خیمہ تان لیا تھا (Ghazal)