Prof. Syed Mujahid Sajjad

ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا

ناصر کاظمی

کلیاتِ ناصر کاظمی

Published 15 October 2026

ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا

حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا

لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے

عہد آوارگی میں کیا کچھ تھا

آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے

عالم بے خودی میں کیا کچھ تھا

یاد ہیں مرحلے محبت کے

ہائے اس بیکلی میں کیا کچھ تھا

کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی

آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا

کتنے مانوس لوگ یاد آئے

صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا

رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ

پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا

About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)

ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔

Read all poetry by Nasir Kazmi

More Urdu poetry by Nasir Kazmi