Prof. Syed Mujahid Sajjad

کچھ تو احساس زیاں تھا پہلے

ناصر کاظمی

کلیاتِ ناصر کاظمی

Published 15 October 2026

کچھ تو احساس زیاں تھا پہلے

دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے

اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ہوں

نشۂ خواب گراں تھا پہلے

اب تو منزل بھی ہے خود گرم سفر

ہر قدم سنگ نشاں تھا پہلے

سفر شوق کے فرسنگ نہ پوچھ

وقت بے قید مکاں تھا پہلے

یہ الگ بات کہ غم راس ہے اب

اس میں اندیشۂ جاں تھا پہلے

یوں نہ گھبرائے ہوئے پھرتے تھے

دل عجب کنج اماں تھا پہلے

اب بھی تو پاس نہیں ہے لیکن

اس قدر دور کہاں تھا پہلے

ڈیرے ڈالے ہیں بگولوں نے جہاں

اس طرف چشمہ رواں تھا پہلے

اب وہ دریا نہ وہ بستی، نہ وہ لوگ

کیا خبر کون کہاں تھا پہلے

ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے

میں بھی آباد مکاں تھا پہلے

اڑ گئے شاخ سے یہ کہہ کے طیور

سرو اک شوخ جواں تھا پہلے

کیا سے کیا ہو گئی دنیا پیارے

تو وہیں پر ہے جہاں تھا پہلے

ہم نے آباد کیا ملک سخن

کیسا سنسان سماں تھا پہلے

ہم نے بخشی ہے خموشی کو زباں

درد مجبور فغاں تھا پہلے

ہم نے ایجاد کیا تیشۂ اشک

شعلہ پتھر میں نہاں تھا پہلے

ہم نے روشن کیا معمورۂ غم

ورنہ ہر سمت دھواں تھا پہلے

ہم نے محفوظ کیا حسن بہار

عطر گل صرف خزاں تھا پہلے

غم نے پھر دل کو جگایا ناصرؔ

خانہ برباد کہاں تھا پہلے

About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)

ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔

Read all poetry by Nasir Kazmi

More Urdu poetry by Nasir Kazmi