Prof. Syed Mujahid Sajjad

رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ

ناصر کاظمی

کلیاتِ ناصر کاظمی

Published 15 October 2026

رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ

لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا کچھ

اب کی فصل بہار سے پہلے

رنگ تھے گلستاں میں کیا کیا کچھ

کیا کہوں اب تمہیں خزاں والو

جل گیا آشیاں میں کیا کیا کچھ

دل ترے بعد سو گیا ورنہ

شور تھا اس مکاں میں کیا کیا کچھ

About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)

ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔

Read all poetry by Nasir Kazmi

More Urdu poetry by Nasir Kazmi