آنکھوں سے میری کون مرے خواب لے گیا
Published 13 October 2026
آنکھوں سے میری کون مرے خواب لے گیا
چشم صدف سے گوہر نایاب لے گیا
طوفان ابر و باد میں سب گیت کھو گئے
جھونکا ہوا کا ہاتھ سے مضراب لے گیا
کچھ ناخدا کے فیض سے ساحل بھی دور تھا
کچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا
اس شہر خوش جمال کو کس کی لگی ہے آہ
کس غم زدہ کا گریۂ خوناب لے گیا
واں شہر ڈوب ڈوب گئے اور ادھر یہ بحث
خم لے گیا ہے یا خم محراب لے گیا
کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید انہیں بہا کے کوئی خواب لے گیا
غیروں کی دشمنی نے نہ مارا مگر ہمیں
اپنوں کے التفات کا زہراب لے گیا
اے آنکھ اب تو خواب کی دنیا سے لوٹ آ
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
About Parveen Shakir (پروین شاکر)
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔