پروین شاکر
Parveen Shakir: Urdu poetry
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔
128 verses on this site
Ghazal
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
Ghazal
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
Ghazal
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
Ghazal
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
Ghazal
پورا دکھ اور آدھا چاند
Ghazal
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
Ghazal
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
Ghazal
حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
Ghazal
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
Ghazal
تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
Ghazal
اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے
Ghazal
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
Ghazal
بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے
Ghazal
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
Ghazal
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے
Ghazal
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
Ghazal
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
Ghazal
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
Ghazal
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
Ghazal
اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے
Ghazal
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
Ghazal
پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
Ghazal
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
Ghazal
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
Ghazal
وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا
Ghazal
اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے
Ghazal
تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے
Ghazal
شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں
Ghazal
گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو
Ghazal
اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا
Ghazal
وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں
Ghazal
اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا
Ghazal
قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی
Ghazal
شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
Ghazal
دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا
Ghazal
ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے
Ghazal
جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
Ghazal
ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا
Ghazal
مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے
Ghazal
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
Ghazal
تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
Ghazal
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
Ghazal
شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلے
Ghazal
کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
Ghazal
تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
Ghazal
چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتی
Ghazal
بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
Ghazal
چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا
Ghazal
سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئی
Ghazal
خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم
Ghazal
قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا
Ghazal
قریۂ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے
Ghazal
اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
Ghazal
گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا
Ghazal
اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک
Ghazal
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
Ghazal
رکنے کا سمے گزر گیا ہے
Ghazal
آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوں
Ghazal
وہ مجبوری نہیں تھی یہ اداکاری نہیں ہے
Ghazal
خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں
Ghazal
میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا
Ghazal
زندگی بے سائباں بے گھر کہیں ایسی نہ تھی
Ghazal
گونگے لبوں پہ حرف تمنا کیا مجھے
Ghazal
سندر کومل سپنوں کی بارات گزر گئی جاناں
Ghazal
اسی میں خوش ہوں مرا دکھ کوئی تو سہتا ہے
Ghazal
کچھ خبر لائی تو ہے باد بہاری اس کی
Ghazal
جگا سکے نہ ترے لب لکیر ایسی تھی
Ghazal
جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں
Ghazal
تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی
Ghazal
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
Ghazal
دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر
Ghazal
الزام تھا دیے پہ نہ تقصیر رات کی
Ghazal
جب ساز کی لے بدل گئی تھی
Ghazal
دکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا آہستہ
Ghazal
رنگ خوش بو میں اگر حل ہو جائے
Ghazal
نم ہیں پلکیں تری اے موج ہوا رات کے ساتھ
Ghazal
ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگا
Ghazal
جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا
Ghazal
ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کا
Ghazal
کھلے گی اس نظر پہ چشم تر آہستہ آہستہ
Ghazal
سبز موسم کی خبر لے کے ہوا آئی ہو
Ghazal
سواد شہر مدینہ کے روبرو ہونا
Ghazal
دل پہ اک طرفہ قیامت کرنا
Ghazal
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
Ghazal
یہ غنیمت ہے کہ ان آنکھوں نے پہچانا ہمیں
Ghazal
پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح
Ghazal
وہ عکس موجۂ گل تھا چمن چمن میں رہا
Ghazal
آنکھوں سے میری کون مرے خواب لے گیا
Ghazal
آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
Nazm
اتنا معلوم ہے!
Nazm
آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی
Nazm
ضد
Nazm
لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی
Nazm
اعتراف
Nazm
آئینہ
Nazm
ایکسٹیسی
Nazm
مجھے مت بتانا
Nazm
نک نیم
Nazm
صرف ایک لڑکی
Nazm
خواب
Nazm
چاند رات
Nazm
ایک دوست کے نام
Nazm
جدائی کی پہلی رات
Nazm
مشورہ
Nazm
اوتھیلو
Nazm
وہی نرم لہجہ
Nazm
ڈیوٹی
Nazm
فبأیّ آلاء ربکما تکذبٰن
Nazm
واہمہ
Nazm
وہ باغ میں میرا منتظر تھا
Nazm
خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی
Nazm
تاج محل
Nazm
بلاوا
Nazm
پذیرائی
Nazm
گئے جنم کی صدا
Nazm
ایک منظر
Nazm
سلام
Nazm
کنگن بیلے کا
Nazm
نہیں میرا آنچل میلا ہے
Nazm
مسئلہ
Nazm
ناٹک
Nazm
نئے سال کی پہلی نظم
Nazm
ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے
Nazm
زود پشیمان
Nazm
جزیہ
Nazm
تقیہ
Nazm
شگون
Nazm
فروغ فرخ زاد کے لیے ایک نظم