Prof. Syed Mujahid Sajjad

تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا

Parveen Shakir

صد برگ

Published 13 October 2026

تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا

ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا

رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا

زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا

عجیب شخص تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی

کھلے دریچے پہ اک پھول دان چھوڑ گیا

جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا

بڑھی ہے دھوپ تو بے سائبان چھوڑ گیا

نکل گیا کہیں ان دیکھے پانیوں کی طرف

زمیں کے نام کھلا بادبان چھوڑ گیا

عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سے

جو گر گئی تو یوں ہی نیم جان چھوڑ گیا

نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہے

کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا

عقب میں گہرا سمندر ہے سامنے جنگل

کس انتہا پہ مرا مہربان چھوڑ گیا

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir