Prof. Syed Mujahid Sajjad

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

Parveen Shakir

صد برگ

Published 13 October 2026

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

اب سفر کا استعارہ اور ہے

ایک مٹھی ریت میں کیسے رہے

اس سمندر کا کنارہ اور ہے

موج کے مڑنے میں کتنی دیر ہے

ناؤ ڈالی اور دھارا اور ہے

جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا

تیر سینے میں اتارا اور ہے

متن میں تو جرم ثابت ہے مگر

حاشیہ سارے کا سارا اور ہے

ساتھ تو میرا زمیں دیتی مگر

آسماں کا ہی اشارہ اور ہے

دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گی

تیز بارش کا سہارا اور ہے

ہارنے میں اک انا کی بات تھی

جیت جانے میں خسارا اور ہے

سکھ کے موسم انگلیوں پر گن لیے

فصل غم کا گوشوارہ اور ہے

دیر سے پلکیں نہیں جھپکیں مری

پیش جاں اب کے نظارہ اور ہے

اور کچھ پل اس کا رستہ دیکھ لوں

آسماں پر ایک تارہ اور ہے

حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہے

آج سے رستہ ہمارا اور ہے

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir