Prof. Syed Mujahid Sajjad

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے

Parveen Shakir

انکار

Published 13 October 2026

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے

مجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے

چوم کر پھول کو آہستہ سے

معجزہ باد صبا کرتی ہے

کھول کر بند قبا گل کے ہوا

آج خوشبو کو رہا کرتی ہے

ابر برسے تو عنایت اس کی

شاخ تو صرف دعا کرتی ہے

زندگی پھر سے فضا میں روشن

مشعل برگ حنا کرتی ہے

ہم نے دیکھی ہے وہ اجلی ساعت

رات جب شعر کہا کرتی ہے

شب کی تنہائی میں اب تو اکثر

گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے

دل کو اس راہ پہ چلنا ہی نہیں

جو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے

زندگی میری تھی لیکن اب تو

تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے

اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ

دل کا احوال کہا کرتی ہے

مصحف دل پہ عجب رنگوں میں

ایک تصویر بنا کرتی ہے

بے نیاز کف دریا انگشت

ریت پر نام لکھا کرتی ہے

دیکھ تو آن کے چہرہ میرا

اک نظر بھی تری کیا کرتی ہے

زندگی بھر کی یہ تاخیر اپنی

رنج ملنے کا سوا کرتی ہے

شام پڑتے ہی کسی شخص کی یاد

کوچۂ جاں میں صدا کرتی ہے

مسئلہ جب بھی چراغوں کا اٹھا

فیصلہ صرف ہوا کرتی ہے

مجھ سے بھی اس کا ہے ویسا ہی سلوک

حال جو تیرا انا کرتی ہے

دکھ ہوا کرتا ہے کچھ اور بیاں

بات کچھ اور ہوا کرتی ہے

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir